افسروں کو آزاد کون کرے گا

یہ نوجوان آفیسر ڈاکٹر احتشام انور تھا، یہ 13 مارچ 2007ء کو اس دن اسلام آباد میں اسسٹنٹ کمشنر رولر تھا جس دن معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنی رہائش گاہ سے پیدل سپریم کورٹ کی طرف چل نکلے، پولیس نے انھیں راستے میں روک لیا اور میڈیا پر بعد ازاں پولیس کی زیادتی کی فوٹیج چلی، اسلام آباد انتظامیہ چیف جسٹس کو بلوچستان ہائوس لے گئی، بلوچستان ہائوس میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان ثالث بن گئے، یہ طے ہوا چیف جسٹس ظفر اللہ جمالی کی گاڑی میں سپریم کورٹ جائیں گے، یہ ظفر اللہ جمالی کا منصوبہ تھا جب کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے حکومت کے ساتھ مل کر دوسرا منصوبہ بنایا، جمالی صاحب اور چیف جسٹس کی سرکاری گاڑی بلوچستان ہائوس سے ایک ساتھ باہر نکلنا تھی، ڈاکٹر احتشام کو ڈی چوک میں کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا، اسے کہا گیا یہ جمالی صاحب کی گاڑی کو ایمبیسی روڈ کی طرف بھجوا دے گا، یہ گاڑی ریڈیو پاکستان سے ہوتی ہوئی پچھلے دروازے سے سپریم کورٹ پہنچ جائے گی جہاں جنرل پرویز مشرف کا جوڈیشل کمیشن تیار بیٹھا تھا، یہ کمیشن چیف جسٹس پر چارج لگائے گا اور انھیں فارغ کر دے گا جب کہ دوسری گاڑی سپریم کورٹ کے سامنے آ کر رک جائے گی، میڈیا، وکلا اور سول سوسائٹی یہ سمجھے گی چیف جسٹس اس گاڑی میں ہیں، یہ اس طرف آ جائیں گے اور یوں حکومت کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا موقع مل جائے گا۔ یہ منصوبہ تیار تھا، گاڑیاں منصوبے کے مطابق ڈی چوک پہنچیں لیکن ڈاکٹر احتشام نے عین وقت پر اپنے سینئرز کے ساتھ ” غداری” کر دی، اس نے خالی کار ایمبیسی روڈ کی طرف موڑ دی اور جمالی صاحب کی گاڑی سپریم کورٹ کے مین گیٹ کی طرف بھجوا دی، چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے اترے، لوگوں نے انھیں کندھوں پر اٹھا لیا اور اس کے بعد انھیں نیچے نہیں اترنے دیا یوں ایک نوجوان افسر کے صرف ایک قانونی قدم نے پورے ملک کی قانونی اور سیاسی صورتحال بدل دی، اگر اس دن ڈاکٹر احتشام اپنے سینئرز کے ساتھ ” غداری” نہ کرتاتو شاید جنرل پرویز مشرف آج بھی ملک کے حکمران ہوتے، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف بدستور جلا وطن ہوتے اور شاید چیف جسٹس ماضی کا قصہ بن چکے ہوتے لیکن ایک شخص کے احساس ذمے داری نے پوری صورتحال بدل دی۔
یہ مثال سرکاری ملازم کی اہمیت کے لیے کافی ہو گی، ایک سرکاری افسر پوری صورتحال بدل سکتا ہے لیکن 99 فیصد سرکاری ملازم رسک نہیں لیتے کیونکہ یہ ملازمت، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں، ہم، ہماری حکومت یا ہماری عدلیہ اگر صرف سرکاری ملازمین کو تحفظ دے دے، یہ اگر انھیں یقین دلا دے ان کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر صرف اور صرف میرٹ پر ہو گی اور کوئی سرکاری اور سیاسی شخصیت انھیں مقرر کروا سکے گی اور نہ ہی ٹرانسفر توپاکستان کا ہر دوسرا افسر ڈاکٹر احتشام ثابت ہو سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کیوں نہیں ہو رہا؟ ڈاکٹر احتشام اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل تھے، انھیں جنوری 2012ء میں ہٹا دیا گیا اور اس عہدے کا اضافی چارج اے ڈی سی آر کو دے دیا گیا، یہ عہدہ اکتوبر تک خالی رہا، اکتوبر میں مریم خان اس عہدے پر تعینات ہوئیں، یہ بھی اعلیٰ حکام کی خواہشات کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوئیں چنانچہ حکومتی دبائو میں انھیں تقرری کے ایک مہینے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا، اس دوران ایک دوسری اسسٹنٹ کمشنر رابعہ اورنگزیب کو بھی اسلام آباد کی قیمتی پراپرٹی پر قبضے کے لیے کوشاں دو فریقین کے تنازعے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا، یہ ایشو چل رہے تھے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کے سابق ڈپٹی ڈی جی میجر جنرل (ریٹائر) نصرت نعیم کے خلاف بوگس چیک کے الزام میں گرفتاری کا حکم جاری کر دیا، ایس پی انڈسٹریل ایریا خرم رشید کو عدالتی حکم پر عملدرآمد سے روکا گیا لیکن خرم رشید اور ایس ایچ او انسپکٹر شفیق احمد نے عدالتی حکم پر عمل کیا اور اس کے ردعمل میں ایس پی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ان تینوں واقعات کا نوٹس لیا جب کہ رابعہ اورنگزیب کے تبادلے پر انکوائری کا حکم جاری ہو گیا، سپریم کورٹ حکم جاری کر چکی ہے کسی سرکاری ملازم کو اس کی مدت پوری ہونے سے قبل عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکے گا لیکن حکومت مسلسل اس حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے، سپریم کورٹ نے ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور چند دنوں میں بڑا فیصلہ بھی سامنے آ جائے گا، یہ انتہائی اچھی شروعات ہیں مگر سپریم کورٹ کو اب مہربانی فرما کر اسلام آباد پولیس کے معاملات بھی اس کیس کا حصہ بنا دینے چاہئیں کیونکہ پولیس کورٹ کے احکامات کی زیادہ بڑی توہین کر رہی ہے، اسلام آباد کے آئی جی بنیامین ڈیڑھ سال سے ایکٹنگ چارج پر ہیں، یہ ڈی آئی جی آپریشنل تھے، حکومت نے 20 جون2011ء کو آئی جی واجد درانی کے تبادلے کے بعد انھیں اضافی چارج دیا اور یہ18 ماہ سے ایکٹنگ چارج پر چلے آ رہے ہیں اور حکومت ان کی اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے، یہ حکمرانوں کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر آنکھیں بند کر کے عمل کرتے ہیں، آپ کو یقین نہ آئے تو آپ پچھلے دو سالوں میں اسلام آباد کے 18 تھانوں کے ایس ایچ اوز کی تبدیلیوں کا ریکارڈ منگوا لیں، آپ حیران ہو جائیں گے، میں چھ تھانوں کا ریکارڈ آپ کے سامنے رکھتا ہوں، رمنا پولیس اسٹیشن میں ستمبر 2011ء سے دس دسمبر 2011ء تک 15 ماہ میں چار ایس ایچ تبدیل ہوئے، کوہسار پولیس اسٹیشن میں دو برسوں میں 8 ایس ایچ او، شالیمار تھانے میں 9 ایس ایچ او، آبپارہ تھانے میں 11 ایس ایچ او، بھارہ کہو میں 7 ایس ایچ او اور شہزاد ٹائون میں بیس ماہ میں 11 ایس ایچ او تبدیل ہوئے، ہم اگر ایس ایچ اوز کی تبدیلی کی اوسط نکالیں تو یہ دو ماہ بنتے ہیں جب کہ پولیس کو کسی ملزم کو نامعلوم قرار دینے کے لیے بھی کم از کم تین ماہ درکار ہوتے ہیں، اگر اسلام آباد جیسے شہر میں قانون کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہو گی تو آپ باقی ملک کا اندازہ خود لگا لیجیے، یہ تبادلہ اور معطلی کی فقط ایک مثال ہے جب کہ ملک میں ان دو ہتھیاروں نے پوری بیوروکریسی کو غلام بنا رکھا ہے، یہ لوگ سینئرز اور حکومت کے غلام بن چکے ہیں اور ان کے پاس نوکری اور پوسٹنگ بچانے کے لیے بڑوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا، آج ملک کا ہر آزاد شہری پوچھ رہا ہے ان لوگوں کو غلامی سے کون آزاد کرے گا۔